نئی دہلی، 25؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہبودبرائے خواتین واطفال کی وزارت کے لئے سال 2020 میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد تشویش کی ایک بڑی وجہ بنی رہی۔
رواں سال اس طرح کی پانچ ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئی تھیں۔ قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کو مارچ میں گھریلو تشدد کی سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئی تھیں اور اس وقت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے لاک ڈاؤن نافذ تھا۔ اس طرح خواتین کو اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے ساتھ گھر کے اندر ہی رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ماہ کے دوران شکایات کی تعداد میں اضافہ ہوا اور جولائی میں ایسی شکایات کی تعداد 660 ہوگئی۔ سال 2020 میں این سی ڈبلیو کو گھریلو تشدد کی پانچ ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔
این سی ڈبلیو کی چیئر پرسن ریکھا شرما نے معاشی عدم تحفظ، مالی عدم استحکام اور دوسروں سے تاخیر جیسے عوامل کو شکایات میں اضافے کیلئے ذمہ دارٹھہرایاہے۔ شرما نے بتایاکہ گھریلو تشدد کے متاثرین کو ان کے باقاعدہ امدادی نظام تک رسائی نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستان میں کووڈ19 لاک ڈاؤن نے گھریلو تشدد کے واقعات کولے کر اطلاعات درج کرنے کے امکانات کو کم کردیا۔انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد کی بڑھتی ہوئی شکایات سے نمٹنے کے لئے لاک ڈاؤن کے دوران این سی ڈبلیو نے ہنگامی جواب کے لئے واٹس ایپ ہیلپ لائن نمبر بھی متعارف کرایا۔
ان کے مطابق این سی ڈبلیو کے ’آڈیو ویزوئل میڈیا آؤٹ ریچ‘ پروگرام کا مقصد خواتین کے تحفظ کے لئے قانونی دفعات کے بارے میں بیداری اجاگرکرنا ہے اور خواتین کو مختلف ہیلپ لائنوں اور ادارہ جاتی مدد کے ذریعے حکومت سے رجوع کرنے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے، نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے چیئرمین پریانک کانونوگو نے بتایا کہ سن 2020 بچوں کے لئے کیسا رہا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لئے تعلیم ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم دینے کے عادی نہیں تھے، لیکن جب کووڈ 19 آیا تو ہمارے لئے چیلنج تھا، تاہم ہم نے مختلف طریقوں سے اس سے نمٹنے کی کوشش شروع کردی ہے اور اب صورتحال بہتر ہو رہی ہے، ہم یہ یقینی بنانے میں کامیاب رہے کہ بچے اپنے اسکولوں سے رابطے میں رہیں چاہے وہ نجی ہوں یا سرکاری اسکول۔انہوں نے بتایاکہ اساتذہ اور آنگن واڑیوں کا سب سے اہم کردار بچوں کے گھروں میں ہے، دوپہر کا کھانا تقسیم کیا جانا تھا اور انہوں نے اس سمت میں ایک قابل ذکر کام انجام دیا ہے۔اس خدشے پر کہ اس وبا کی وجہ سے اسکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ ہوگا؟
کانونگو نے کہاکہ اسکولوں کے دوبارہ کھلنے سے پہلے اس طرح کا خدشہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بار اسکول کھلنے کے بعد ہم بچوں کو اسکولوں میں لائیں گے۔دسمبر میں جاری قومی فیملی ہیلتھ سروے 5 نے ایک سنجیدہ منظرنامہ پیش کیا جس کے مطابق 2015-16ء میں 2019-20ء میں بچوں میں غذائی قلت کا اضافہ ہوا۔ وزارت کے لئے بچوں کے خلاف جرائم ایک اور خدشہ رہا ہے۔ وزارت بہبود برائے خواتین واطفال نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ یکم مارچ سے 18 ستمبر تک چائلڈپورنوگرافی، عصمت دری اور اجتماعی عصمت دری کی کل 13244 شکایات موصول ہوئی ہیں۔